مسلمانوں کی عالمگیر فتوحات کے زمانے میں اسلامی سلطنت کی سرحدیں وسط ایشیا میں غز ترکوں کے علاقوں سے جا ملیں ۔
ترک قبائل عام طور پر خانہ بدوشوں کی زندگی بسر کرتے تھے چنانچہ مسلمان تاجروں سے ان کا اکثر میل جول رہنے لگا
انہی تاجروں کے زیر اثر ترکوں میں آہستہ آہستہ اسلام پھیلنا شروع ہو گیا اور وہ تہذیب کے سانچے میں ڈھلنے لگے
ترکوں کا جو قبیلہ اسلام قبول کرتا وہ اسلامی سلطنت کی سرحدوں پر بس جاتا ان لوگوں کو ترکمان کہا جاتا تھا ۔
غز ترکوں کے ایک قبیلے نے چوتھی صدی ہجری کے وسط میں اپنے وطن سے ہجرت کرکے ماوراء النہر کا رخ کیا اور وہاں پہنچ کر نواح جند میں اقامت اختیار کرلی
![]() |
| ماوراء النہر ، سلطان الپ ارسلان |
اس قبیلے کا سردار سلجوق بن وقاق تھا اور اسی کے نام کی وجہ سے اس کے خاندان اور نسل کو سلجوقی یا سلاجقہ کہا جاتا ہے
سلجوق ایک مرد مجاہد تھا ۔ جب کبھی وحشی ترک اس کے علاقے کی طرف بڑھتے وہ ان کے سامنے سینہ سپر ہو جاتا اور اپنے کافر بھائی بندوں سے لڑ بھڑ کر مسلمانوں کی جان و مال بچا لیتا ۔
سلجوق کا بیٹا اسرائیل سلجوق فرقوں کی قیادت کرتا رہا جبکہ اس کا دوسرا بیٹا میکائیل اس کی زندگی ہی میں کسی جنگ میں مارا گیا مگر اپنے پیچھے دو بیٹے طغرل بیگ اور چغری بیگ چھوڑ گیا ۔
سلجوق کی وفات کے بعد سلجوقی دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ایک نے اسرائیل کو اپنا سردار بنا لیا اور دوسرے گروہ نے میکائیل کے دونوں بیٹوں کو ۔
اگلے تیس برس جہاں اسرائیل ماوراء النہر کی سیاست میں سرگرمی سے حصہ لیتا رہا وہاں طغرل بیگ اور چغری بیگ اپنے ساتھی قبائل کے ساتھ سکون واطمینان اور خاموشی کی زندگی گزارتے رہے ۔
اسرائیل نے ان لڑائیوں میں نمایاں حصہ لیا جو سامانیوں ، الک خانیوں اور غزنویوں میں ہو رہی تھیں ۔ آخر ایک لڑائی میں سلطان محمود غزنوی نے اسرائیل کو گرفتار کرکے قلعہ کالنجر ہندوستان میں قید کر دیا جہاں اس نے سات سال بعد قید ہی کی حالت میں وفات پائی ۔
![]() |
| قلعہ کالنجر |
اس کا بیٹا قتلمش غزنویوں سے بچتا بچاتا اپنے عزیزوں کے پاس بخارا پہنچ گیا ۔
قتلمش سلاجقہ روم کا مورث اعلیٰ تھا جو ایشیائے کوچک کے حکمران رہے اور پھر ترکان عثمانی ان کے جانشین ہوئے ۔
جب تک سلطان محمود غزنوی زندہ رہا اس کی بے پناہ فوجی قوت اور تدبر کے سامنے سلجوقیوں کو سر اٹھانے کی جراءت نہ ہوئی یہاں تک کہ اسرائیل کی گرفتاری اور قید کا کڑوا گھونٹ بھی انہوں نے طوعاً و کرہاً پی لیا ۔
لیکن جونہی سلطان محمود غزنوی نے وفات پائی سلجوقیوں نے اس کے جانشین مسعود کے خلاف اپنی تگ و تاز کا آغاز کردیا ۔ مسعود اپنے عظیم باپ کی خوبیوں سے عاری تھا ، وسیع و عریض غزنوی سلطنت نہ سنبھال سکا ۔
کئی سال تک غزنویوں اور سلجوقوں میں لڑائیاں ہوتی رہیں ، کبھی غزنویوں کو ہزیمت ہوئی اور کبھی سلجوقوں کو
بالآخر طغرل بیگ اور چغری بیگ نے سرخس اور مرو کے درمیان ایک خونریز جنگ میں مسعود غزنوی کو فیصلہ کن شکست دی اور اس کے نتیجے میں غزنوی سلطنت اپنے مشرقی علاقوں میں سمٹ کر رہ گئی اور سلجوقی خراسان کی قسمت کے مالک بن گئے ۔
خراسان کی فتح کے بعد سلجوقیوں کی جہانبانی اور کشور کشائی کا دور شروع ہو گیا اور ان کے تمام گروہوں نے طغرل کو اپنا سردار تسلیم کرلیا ۔
طغرل نے عنان حکومت سنبھالتے ہی ایک طرف تو ترکستان اور ماوراء النہر کے حکمرانوں کو فتح نامے لکھے
![]() |
| Moral Stories |
اور دوسری طرف سفیر کے ہاتھ خلیفہ بغداد کی خدمت میں ایک عرضداشت بھیجی جس میں اسے اپنی فتح کی خبر دی اور اس کے ساتھ ہی خراسان کی سند حکومت عطا کرنے کی استدعا کی ۔
خلیفہ نے یہ عرضداشت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا اور طغرل بیگ کو نہ صرف سند حکومت عطاء کی بلکہ اسے رکن الدین کا خطاب بھی مرحمت فرمایا ۔
طغرل بیگ اور چغری بیگ دونوں بھائیوں میں کمال درجہ کا اتحاد تھا ۔ دونوں ایک دوسرے کے دست و بازو تھے چھوٹا بھائی تمام عمر بڑے بھائی کا مطیع و فرمانبردار رہا ۔
طغرل بیگ نے اپنے چھوٹے بھائی کو خراسان کے بالائی علاقوں کا حکمران بنا دیا
![]() |
| سلطان الپ ارسلان |
اور مشرقی و شمالی علاقے اس کی جنگی سرگرمیوں کے لیے مخصوص کردیے ۔
چغری بیگ نے مرو کو اپنا دارالحکومت بنایا اور تین سال کے اندر اندر بلخ اور خوارزم بھی فتح کرکے اپنی قلمرو میں شامل کر لیے ۔
اس کو اپنے داخلی و خارجی امور میں مکمل آزادی حاصل تھی تاہم وہ طغرل کو اپنا سردار تسلیم کرتا تھا اور اس سے مشاورت ضرور کرتا ۔
طغرل بیگ بہت قابل سپہ سالار اور فاتح تھا ۔ اس نے فتوحات کرکے اپنی سلطنت کو اتنی وسعت دی کہ اس کے حدود سلطنت دولت بویہیہ کے حدود سے جا ملے ۔ اس نے اس وسیع و عریض سلطنت پر ٢٦سال تک بڑی اچھی طرح حکومت کی ۔
بویہی خاندان ایک صدی سے فارس ، عراق ، اہواز ، کرمان اور اصفہان پر حکومت کررہا تھا ۔ قلب اسلام بغداد پر بھی ان کی اتنی سخت گرفت تھی کہ خلیفہ بغداد بھی ان کے سامنے بےبس تھا اور اس کی حیثیت ایک معزز وظیفہ خوار سے زیادہ نہ تھی ۔
بویہی حکمرانوں نے پہلے سلطان اور پھر شہنشاہ کا لقب اختیار کیا ۔ خطبہ میں خلیفہ کے نام کے ساتھ ان کا نام بھی لیا جاتا تھا بلکہ سکہ پر بھی ان کا نام ہوتا ۔
عضد الدولہ ایک علم دوست اور عادل حکمران تھا اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بہت دلچسپی رکھتا تھا ۔ لیکن اس کی وفات کے بعد اس کے جانشینوں کی باہمی آویزش نے اس خاندان کو روبہ زوال کردیا تاہم طغرل کے عروج کے وقت ان میں اتنی طاقت تھی کہ سلجوقیوں سے نبردآزما ہوسکیں ۔
دونوں طاقتوں کی سرحدوں کے اتصال کے بعد ان کے مابین تصادم کا شدید امکان پیدا ہوگیا لیکن اس موقع پر خلیفہ بغداد قائم بامر اللہ نے مداخلت کی اور اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر بویہی حکمرانوں اور طغرل کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم کرادیے ۔
لیکن یہ صورتحال زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہی اور سلجوقی اور بویہی افواج کے درمیان وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہونے لگیں ۔ ان میں سلجوقیوں کو بالعموم غلبہ حاصل ہوتا تھا ۔
بویہی حکمران ابو کالیجار کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں کے درمیان جنگ اقتدار شروع ہو گئی ۔
طغرل نے اس خانہ جنگی سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھایا اور اصفہان ،
![]() |
| فارس |
کردستان ، فارس پر قبضہ کرکے عراق کی طرف پیش قدمی کی
![]() |
| عراق |
ابو کالیجار کے دو بیٹوں نے تو طغرل کی اطاعت قبول کرلی البتہ تیسرے بیٹے نے الملک الرحیم کا لقب اختیار کرکے بویہی سلطنت کا بادشاہ بننے کا اعلان کردیا ۔
اگرچہ اس کا دائرہ اقتدار محدود تھا اور ان علاقوں میں سخت بدنظمی اور انتشار کا دور دورہ تھا پھر بھی بغداد پر قابض و متصرف ہونے کی وجہ سے دنیائے اسلام میں اسے خاصی اہمیت حاصل تھی ۔
طغرل نے بغداد کا رخ کیا ۔ خلیفہ کی طرف سے تمام عمائدین ، قاضی القضاء اور اشرافیہ یہاں تک کہ بویہی امراء نے بھی اس کا شاندار استقبال کیا ۔
قیام بغداد کے دوران اتفاقاً اس کی فوج کے چند سپاہی کسی غلط فہمی کی بنا پر بغداد کے شہریوں کے ہاتھ سے مارے گئے ۔ طغرل کو شبہ ہوا کہ یہ سب کچھ ملک الرحیم کے اشارے سے ہوا ہے ۔ چنانچہ اس نے ملک الرحیم اور اس کے امراء کو گرفتار کرکے نظر بند کردیا ۔
بویہی امراء کو تو اس نے بعد میں خلیفہ کی سفارش پر رہا کر دیا لیکن ملک الرحیم کو نہ چھوڑا اس طرح آل بویہ کا آفتابِ اقتدار ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا
اسی زمانے میں بویہی امیر بساسیری نے سلجوقیوں کے خلاف شورش برپا کردی ۔ طغرل کے بغداد آنے سے پہلے بھی وہ ایک مرتبہ خلیفہ اور وزیر سلطنت کو پریشان کر چکا تھا ۔
بغداد پر طغرل کے قبضے کے بعد وہ شام چلا گیا تھا اور فاطمی خلیفہ مصر المستنصر باللہ کی اطاعت قبول کر کے ایک زبردست فوج تیار کرلی اور طغرل کے چچازاد بھائی قتلمش کو شکست دے کر اس کے علاقوں پر قبضہ کرلیا ۔
انہی دنوں طغرل کو دو عظیم سانحات سے دوچار ہونا پڑا پہلا سانحہ تو اس کے چھوٹے بھائی چغری بیگ کا انتقال تھا جو حقیقی معنوں میں طغرل کا دست و بازو تھا ۔
دوسرا سانحہ یہ تھا کہ طغرل کے سوتیلے بھائی ابراہیم اینال نے ایک زبردست فوج جمع کرکے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا سلطان کے پاس اس وقت تھوڑی سی فوج تھی جس کی ابراہیم کے لشکر گراں کے سامنے کوئی حیثیت نہ تھی ۔
طغرل کے لیے یہ بہت نازک گھڑی تھی لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی مدد کی اور عین وقت پر اس کے بھتیجے الپ ارسلان اور اس کے بھائی اپنی فوجیں لے کر اس کی مدد کو پہنچ گئے ۔ بالآخر رے کے مقام پر ابراہیم اینال اور طغرل بیگ کی فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا ،
اس میں ابراہیم اینال کو شکست فاش ہوئی اور اسے گرفتار کرکے طغرل کے سامنے پیش کیا گیا ۔ ابراہیم اس سے پہلے بھی ایک دو موقعوں پر سرکشی کا مظاہرہ کر چکا تھا لیکن طغرل نے اسے معاف کردیا تھا ، اس مرتبہ وہ معافی کا مستحق نہ سمجھا گیا اور طغرل کے حکم سے اسے پھانسی دے دی گئی ۔
جس زمانے میں طغرل ابراہیم کے قضیے میں الجھا ہوا تھا بساسیری نے میدان خالی دیکھ کر بغداد پر حملہ کردیا ۔
بیچارے خلیفہ میں مقابلے کی سکت کہاں تھی ، بساسیری نہایت آسانی کے ساتھ قلب اسلام پر قابض ہو گیا اور اپنی باقاعدہ حکومت قائم کرکے عراق میں فاطمی خلیفہ مصر کا خطبہ جاری کردیا اور آذان میں کلمہ حي على خير العمل کا اضافہ کر دیا ۔
اس کے فوجیوں اور بنو عقیل کے بدوؤں نے قصر خلافت کو جی بھر کر لوٹا ، خلیفہ بغداد کو بساسیری نے معزول کرکے قید میں ڈال دیا ، وزیر سلطنت رئیس الروءسا کو قتل کروا دیا
اور عباسی خلافت کے عین مرکز بغداد میں مصری خلافتِ فاطمیہ کے جھنڈے لہرانے لگے ۔
خلیفہ نے نظر بندی کے دوران سلطان طغرل کو اپنی مصیبت اور بغداد پر بساسیری کے قبضے کے بارے میں لکھ کر آگاہ کیا اور اس سے درخواست کی کہ اگر اسلام کو بربادی سے بچانا ہے تو فوراً بغداد پہنچو ۔
طغرل اس وقت اپنے اندرونی جھگڑوں میں الجھا ہوا تھا وہ فوراً تو خلیفہ کی مدد کے لیے نہ پہنچ سکا تاہم اس نے جواب میں خلیفہ کی تسلی کرادی ۔
ابراہیم اینال کی مہم سے فارغ ہو کر طغرل ایک لشکر جرار لے کر بغداد روانہ ہوا ۔ اس کی آمد کی خبر سن کر بساسیری پر ہیبت طاری ہو گئی ۔
ایک سال پہلے وہ بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ بغداد میں داخل ہو کر اس پر قابض ہوا تھا اور ٹھیک ایک سال بعد وہاں سے فرار ہو رہا تھا ۔
طغرل کے حکم سے فوج کے ایک دستے نے اس کا تعاقب کیا اور اسے شام کی طرف بھاگتے ہوئے ایک جگہ جا لیا ۔ اس نے کچھ مزاحمت کی لیکن بہت جلد مغلوب ہو گیا اور موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔
![]() |
| قصر خلافت |
خلیفہ بغداد میں داخل ہوا اور سلجوقوں کی بے پناہ قوت کے بل پر عباسی خلافت کا کاروبار پھر بحال ہو گیا ۔
سلطان طغرل الپ ارسلان کو اس کے اعلیٰ ذاتی اوصاف و خصائل کی وجہ سے بہت عزیز رکھتا تھا اور لوگوں کو بھی اس نے یہی تاثر دے رکھا تھا کہ الپ ارسلان ہی اس کا ولی عہد بنے گا حقیقت بھی یہی تھی کہ وہی ہر لحاظ سے اس کی جانشینی کا اہل تھا لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ سلطان طغرل نے وفات سے چند دن قبل اپنے دوسرے بھتیجے سلیمان کو اس کی والدہ کے اصرار پر اپنا جانشین نامزد کر دیا ۔
چنانچہ طغرل کی وصیت کے مطابق وزیر سلطنت عمید الملک کندری نے سلیمان کو تخت و تاج دلانے کی کوشش شروع کر دی ۔ اسی دوران سلجوقی خاندان کے دو سرکردہ افراد نے بھی اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا لیکن سلجوق سرداروں کی اکثریت نے الپ ارسلان کے حق میں فیصلہ دے دیا
یہ بہت نازک وقت تھا الپ ارسلان بھی بڑا باہمت اور صاحب تدبیر حکمران تھا ۔ اس نے تمام بغاوتوں کو بڑی حکمت سے فرو کیا ۔
خلافت سنبھالنے کے فوراً بعد سلطان الپ ارسلان نے مسیحی آرمینیا پر یلغار کی
![]() |
| آرمینیا |
اور چند دن کے اندر اندر یکے بعد دیگرے کئی قلعے فتح کرلیے ، سلطان الپ ارسلان کی افواج مسلسل پیش قدمی کرتی ہوئی مسیحی آرمینیہ کے اہم دفاعی شہر تک پہنچ گئیں ۔ اس شہر کے اردگرد نہ صرف دوہری فصیل تھی بلکہ وہ دو جانب دریا اور دو جانب پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا اور اسے ناقابل تسخیر مقام سمجھا جاتا تھا ۔ سلطان کی افواج نے دریا عبور کرکے شہر کا محاصرہ کرلیا اور محصورین کو رسد اور کمک پہنچنے کے تمام راستے مسدود کردیے ۔
![]() |
| شہر کا محاصرہ ، سلطان الپ ارسلان |
اہل شہر نے تنگ آکر ایک چال چلی ، انہوں نے سلطان کے پاس دو سفیر بھیج کر درخواست کی کہ اپنی فوج ان کے ساتھ بھیجے تاکہ شہر ان کے حوالے کر دیا جائے ۔ سلطان نے ان کی بات کا یقین کرلیا اور فوج کا ایک دستہ ان کے ساتھ بھیج دیا ، جونہی یہ دستہ شہر کی بیرونی فصیل کے اندر داخل ہوا اہل شہر نے اس کو گھیر کر شہید کردیا اور دوسری طرف سے سلطان پر اچانک حملہ کرکے سلطانی فوج کو ایک خوفناک اضطراب میں ڈال ، اس اچانک حملے سے گھبرا کر فوج کی صفیں منتشر ہو گئیں ۔
سلطان الپ ارسلان نے اس صورتحال کا جائزہ لیا ، اپنی فوج کو جمع کیا ، ان کا حوصلہ بڑھایا اور پوری قوت سے دشمن پر جوابی وار کیا جس سے دشمن کو شکست ہوئی ، سلطانی افواج نے شہر پر قبضہ کر لیا اور غدار شہریوں کو حوالہ تیغ کردیا ۔
اس کے ساتھ ہی تائید غیبی سے قلعہ کی ایک دیوار اچانک گر گئی اور سلجوقی فوجیں شہر میں داخل ہو گئیں شدید مزاحمت کے بعد بالآخر یہ شہر فتح ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی مسیحی ریاست کا خاتمہ ہو گیا ۔
آرمینیا کی مہم سے فراغت کے فوراً بعد سلطان الپ ارسلان کو ایک اور مہم سے واسطہ پیش آیا ، کرمان اور فارس کے والیوں نے سلطان الپ ارسلان کے خلاف شورش برپا کردی ۔ ان سے نبٹنے کے بعد وہ یمن ، حجاز ، شام اور فلسطین کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت فاطمی خلافت کے حلقہ اثر میں تھے ۔ ان ممالک میں عباسی خلافت کے قیام کے بعد سلطان الپ ارسلان دمشق میں داخل ہوا
![]() |
| دمشق |
اس زمانے میں حلب پر محمود بن صالح کی حکومت تھی ۔ اس نے سلطان الپ ارسلان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے فاطمی خلیفہ کا خطبہ ختم کرکے عباسی خلیفہ کا خطبہ جاری کردیا لیکن الپ ارسلان کو معتبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ محمود نے آذان میں حي علی خیر العمل کہنا ترک نہیں کیا ۔ چنانچہ وہ ایک طاقتور فوج کے ساتھ حلب پہنچا اور اس کا محاصرہ کر لیا ۔
محمود نے کچھ مدت مقابلہ کیا پھر اس کی ہمت جواب دے گئی اور ایک رات وہ اپنی ماں کو ساتھ لے کر سلطان الپ ارسلان کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ بوڑھی خاتون نے اپنے بیٹے کا ہاتھ سلطان کے ہاتھ میں دے کر کہا ، یہ میرا بیٹا ہے جو سلوک اس کے ساتھ چاہو کرو ، سلطان کا دبدبہ اور جلال اس عرب خاتون کے سامنے سپر انداز ہو گیا ۔ اس نے محمود کو عزت کے ساتھ بٹھایا ، اسے خلعت عطا کی اور حلب کی حکومت اسی کے پاس رہنے دی ۔
سلطان الپ ارسلان انتہائی فیاض ، خدا ترس ، شجاع اور عادل حکمران تھا ۔ فقراء و مساکین کی مستقل کفالت کرتا ، مقررہ مالگزاری کے علاوہ اس نے رعایا سے کسی قسم کا محصول نہ لیا ۔ اس کے عدل اور فریاد رسی کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ اس کے ایک غلام خاص نے کسی غریب شخص کی کوئی چیز ہتھیا لی ۔ جب اس نے سلطان کے پاس فریاد کی تو سلطان نے مجرم کو پکڑ کر سر عام سولی پر لٹکا دیا تاکہ آئندہ کسی کو رعایا کے ساتھ زیادتی کرنے کی جراءت نہ رہے ۔
آرمینیا کی فتح کے کچھ عرصے بعد رومیوں نے مسلمانوں سے اگلے پچھلے بدلے چکانے کی ٹھانی اور قیصر روم رومانوس دیوجانس مشرق میں مسلمانوں کے ساتھ ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے قسطنطنیہ سے اس شان سے نکلا کہ اس کے جھنڈے تلے چھ لاکھ جنگجووں پر مشتمل ایک لشکر جرار تھا
![]() |
| قسطنطنیہ |
اس کے علاوہ جنگل کاٹنے والوں ، راستوں کو ہموار کرنے والوں اور فصیلوں میں نقب لگانے والوں کی تعداد بھی ایک لاکھ سے کم نہ تھی ۔ اس لشکر میں یورپ کے کئی ملکوں کی بہترین افواج بھی شامل تھیں جو مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے جذبے سے سرشار تھیں ۔ قیصر کے آزمودہ کار سپاہیوں کے پاس اعلیٰ درجے کا اسلحہ تھا اور بیسیوں اتنی بڑی منجنیقیں تھیں کہ ایک ایک کو کھینچنے کے لیے ایک ایک سو بیلوں کی ضرورت ہوتی تھی اور وہ پورے یقین سے کہہ رہے تھے کہ ، ہم آئندہ موسم سرما رے (سلجوقیوں کے پایہ تخت) میں گزاریں گے اور گرما کا موسم عراق میں ، پھر واپسی پر شامی علاقوں سے ہوتے ہوئے اپنے گھر لوٹیں گے
قیصر روم نے سارے اسلامی علاقوں کو اپنے عیسائی سرداروں میں تقسیم کردیا تھا اور اسی خیالی تقسیم کی بنیاد پر اس سردار کو جس کے حصے میں عراق آیا تھا یہ ہدایت کی تھی کہ ، بغداد کے اس بوڑھے شخص کا خیال رکھنا وہ بیچارہ شریف آدمی ہے اور ہمارا دوست ہے ۔ یہ اشارہ خلیفہ بغداد کی جانب تھا ۔
ہر امکانی رکاوٹ سے نبٹنے کا پختہ انتظام کرکے وہ اپنے عظیم الشان لشکر کے ہمراہ صوبہ خلاط میں داخل ہوا اور ملازگرد کے قریب خیمہ زن ہو گیا ۔
اس زمانے میں سلطان الپ ارسلان ، آذر بائیجان کے شہر خوی میں فروکش تھے جہاں اس کے پاس صرف پندرہ ہزار سواروں کا لشکر تھا ۔ جب اسے قیصر کی پرخروش یلغار کی خبر ملی تو خوفزدہ ہونے کی بجائے اس کا جوش شجاعت اور بڑھ گیا ۔ وہ اپنے مختصر لشکر کے ہمراہ قیصر روم سے مقابلے کے لیے میدان میں آگیا ۔ اس موقع پر اپنے لشکر سے مخاطب ہوکر سلطان نے کہا ، اے مجاہدین اسلام بلا شبہ ہماری تعداد دشمن کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔ لیکن ہمیں صبر اور ہمت سے کام لینا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت پر بھروسہ کرکے دشمن سے نبرد آزما ہونا ہے اگر فتح یاب ہوئے تو خداوند عالم کا عظیم احسان ہے ورنہ درجہ شہادت پر تو ضرور فائز ہوں گے ۔
تمام لشکر نے آخری دم تک ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا اور سلطان الپ ارسلان نے انہی پندرہ ہزار جاں بازوں کے ساتھ دشمن کی طرف پیش قدمی کی ۔
![]() |
| لشکر سلطان الپ ارسلان |
تین دن بعد سلطان کے لشکر اور رومی افواج کے درمیان گھمسان کا رن پڑا ۔ قلیل التعداد اسلامی ہراول دستے نے پہلے ہی حملے میں دشمن پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ اس کے پرخچے اڑا دیے اور اس کے سپہ سالار کو قید کر لیا ۔ قیصر اپنی باقاعدہ فوج کے ساتھ خلاط کا محاصرہ کیے ہوئے تھا ۔ جب اسے اپنے ہراول دستے کی شکست کی خبر ملی تو اس نے اپنی ساری فوج کو جمع کیا اور ملازگرد پر پڑاؤ ڈال دیا ۔ سلطان الپ ارسلان بھی پیشقدمی کرکے ملازگرد پہنچ گیا اور رومی لشکر سے دو فرلانگ کے فاصلے پر خیمہ زن ہو گیا ۔
جنگ شروع ہونے سے پہلے سلطان الپ ارسلان نے قیصر کو صلح کا پیغام بھیجا کہ اگر تم اپنے ملک واپس چلے جاؤ تو ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ ممالک مقبوضہ روم میں کسی قسم کی دست اندازی نہیں کریں گے اس طرح بندگانِ خدا کی جانیں ناحق ضائع ہونے سے بچ جائیں گی ۔
قیصر کو یہ پیغام ملا تو اس نے اسے سلطان کی کمزوری پر محمول کیا اور نہایت تکبر سے جواب دیا اگر تم ایسے ہی امن پسند ہو اور بندگانِ خدا کا خون بہانہ پسند نہیں کرتے تو یہاں سے چلے جاؤ اور صلح تمہارے پایہ تخت رے میں پہنچ کر ہو گی ۔
سلطان الپ ارسلان نے اپنی فوج کو جنگ کے لیے تیاری کرنے کا حکم دے دیا ۔ لشکر میں شامل ابو نصر محمد بن عبد المالک نے سلطان کو مشورہ دیا کہ آج توقف کریں کل جمعہ کی نماز کے بعد میدان جنگ کو روانہ ہوں ۔ سلطان نے یہ مشورہ قبول کر لیا اور جنگ اگلے دن تک ملتوی کردی گئی ۔
نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا ۔ سلطان الپ ارسلان نے اپنے ترک تیر اندازوں کو ہلال کی شکل میں میدان میں متعین کیا ۔ وہ ایسی سرعت اور چابکدستی سے تیر برسا رہے تھے کہ رومیوں کی پچھلی صفیں آگے بڑھنے کا موقع ہی نہیں پاتی تھیں ۔ اگلی صفیں جو آزمودہ کار جنگجووءں پر مشتمل تھیں مسلمانوں کے پے در پے طوفانی حملوں سے منتشر ہوگئیں اور ان کے نامی گرامی جرنیل باسلاسیوس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ۔ اس مرحلے پر قیصر سے ایک فاش غلطی سرزد ہوئی ۔ وقت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنی پسپا ہوتی فوج کو سنبھالنے کے لیے آگے بڑھتا لیکن اس کے بجائے اس نے سستانے کے لیے اپنے خیمے کا رخ کیا ۔ مغربی مفکرین لکھتے ہیں کہ تمازت آفتاب نے اس کو بوکھلا دیا تھا اور وہ حالات کی نزاکت کا احساس نہ کرسکا ۔
جب اس کی فوج نے شاہی علم کو پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تو اس کی ہمت پست ہو گئی اور اکثر رومی سپاہی بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔
قیصر روم نے اپنی فوج کی یہ حالت دیکھی تو اپنی غلطی پر متنبہ ہوا اور اپنے لشکر کے منتخب دستوں کو ساتھ لے کر پھر میدان کی طرف پلٹا لیکن اب جنگ کا نقشہ بدل چکا تھا ۔ مسلمانوں کے حوصلے دو چند ہو گئے تھے اور وہ رومیوں پر زبردست دباؤ ڈال رہے تھے ۔
قیصر ایک بہادر آدمی تھا اور تاج شاہی سر پر رکھنے سے پہلے سالہا سال ایک فوجی جرنیل کی زندگی گزار چکا تھا ۔ وہ بڑی جوانمردی اور ثابت قدمی سے لڑا لیکن جلد ہی اس کے ارد گرد کی فوج مسلمان شاہ سواروں سے مغلوب ہو گئی اور قیصر روم کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا ۔ اس طرح پندرہ ہزار مجاہدین نے دو لاکھ رومیوں کے ٹڈی دل پر عظیم الشان فتح حاصل کر لی ۔
![]() |
| سلطان الپ ارسلان |
جنگ ملازگرد دنیا کی عظیم جنگوں میں سے ہے کیونکہ اس نے عظیم الشان رومی سلطنت کی ہیبت اور دبدبے کو ملیامیٹ کردیا اور ایشیائے کوچک کا دروازہ مسلمانوں پر کھول دیا ۔
![]() |
| ایشیائے کوچک |
اس لڑائی میں کثیر تعداد میں رومی قتل اور گرفتار ہوئے ۔
دوسرے دن قیصر کو سلطان الپ ارسلان کے سامنے پیش کیا گیا ، سلطان اپنی نشست گاہ سے اٹھا ، چند قدم آگے بڑھ کر نہایت تپاک کے ساتھ شہنشاہ روم کے ساتھ مصافحہ کیا اور بہت عزت و احترام کے ساتھ اسے اپنے ساتھ بٹھایا پھر اس کی دلجوئی کی اور اسے یقین دلایا کہ ایک بادشاہ کی حیثیت سے اس کی عزت برقرار رکھی جائے گی ۔
سات دن تک میدان جنگ میں سلطانی لشکر نے جشن فتح منایا ۔ اس دوران سلطان الپ ارسلان نے اپنی قیام گاہ کے قریب ایک بڑا خیمہ نصب کروایا اور قیصر روم اور اس کے چیدہ جرنیلوں کو اعزاز کے ساتھ اپنا مہمان بنایا ، ایک دن سلطان نے جنگ کا ذکر چھیڑا اور قیصر سے پوچھا کہ اب تم ہم سے کس سلوک کی امید کرتے ہو ؟
قیصر روم نے جواب دیا ، اگر ظالم ہو تو قتل کر دو گے ، متکبر ہو تو پورے ملک میں تشہیر کرو گے یا پھر عمر بھر کے لیے حوالہ زنداں کر دو گے اور اگر شاہانہ فیاضی سے کام لینا چاہو تو تاوان جنگ لے کر معاف بھی کر سکتے ہو
سلطان اس کے جواب پر مسکرا دیا اور پھر دریافت کیا ، اگر میں اس حالت میں تمہارے پاس لایا جاتا تو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے ؟
قیصر روم نے بے ساختہ جواب دیا ، بد ترین سلوک ۔۔۔۔ جو میرے بس میں ہوتا ۔
سلطان الپ ارسلان نے کہا اب مجھے تمہاری ذہنیت کا علم ہو گیا ہے کیوں نہ میں بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کروں ؟
قیصر نے جواب دیا ، میں نے اپنی ذہنیت اور فساد نیت کا پھل بھی تو پا لیا ۔
سلطان الپ ارسلان اس کا جواب سن کر ہنس پڑا اور کہنے لگا میں دین حق اسلام کا پیرو ہوں اور اسلام امن اور سلامتی کا پیامبر ہے ، جو سلوک تم میرے ساتھ کرنا چاہتے تھے وہ میں تمہارے ساتھ ہر گز نہ کروں گا ۔
اس کے بعد دونوں میں دیر تک دوستانہ ماحول میں گفتگو ہوئی پھر ان دونوں کے درمیان اگلے پچاس برسوں کے لیے ان شرائط پر صلح کا معاہدہ ہو گیا ۔
- قیصر دس لاکھ دینار بطور فدیہ ادا کرے گا اور اس کے بعد ہر سال تین لاکھ ساٹھ ہزار دینار بطور خراج ادا کرے گا
- تمام مسلمان اسیرانِ جنگ رہا کردیے جائیں گے ۔
- ضرورت کے وقت قیصر روم سلطان الپ ارسلان کو فوجی امداد دے گا
تکمیلِ معاہدہ کے بعد سلطان نے قیصر اور اس کے جرنیلوں کو قیمتی خلعت عطا کیے اور رخصت کرتے وقت تین میل تک اس کی مشایعت کی ۔
ادھر قیصر روم رومانوس کی شکست کی خبر پا کر رومی پادریوں نے مشہور کردیا کہ خداوند یسوع مسیح رومانوس سے ناراض ہیں اس لیے یہ شخص بادشاہت کے لائق نہیں رہا چنانچہ سلطنت میں انقلاب برپا ہوگیا اور قسطنطنیہ کے تاج و تخت پر میخائیل نے قبضہ کرلیا ۔
جب رومانوس سلطان الپ ارسلان سے رخصت ہو کر اپنے سرحدی قلعہ میں وارد ہوا تو اس کو انقلاب سلطنت کا حال معلوم ہوا ، دل شکستہ رومانوس نے سلطان الپ ارسلان کو انقلاب سلطنت کا حال لکھا ۔
سلطان الپ ارسلان نے ارادہ کیا کہ رومانوس کے دشمنوں کی سرکوبی کرکے تخت سلطنت پھر اسے واپس دلایا جائے لیکن چند دن بعد سلطان الپ ارسلان کو اطلاع ملی کہ رومانوس کو باغیوں نے گرفتار کر کے اندھا کردیا اور پھر قتل کر ڈالا ۔
سلطان الپ ارسلان ایک مدت سے بلادِ ترکستان کی طرف پیشقدمی کرنا چاہ رہا تھا لیکن اس کی دوسری مصروفیات اس ارادے کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہی تھیں ۔ جنگ ملازگرد کے بعد اس نے اس مہم کے لیے زور و شور سے تیاریاں شروع کردیں اور ایک زبردست فوج کے ساتھ اس مہم پر روانہ ہوا ۔ یہ فوج ڈھائی لاکھ جنگجووءں پر مشتمل تھی ۔
سلطان الپ ارسلان نے دریائے جیحوں پر کشتیوں کا پل بنوایا اور بیس پچیس دن کے اندر اپنے عظیم الشان لشکر اور تمام آلات حرب کے ساتھ دریا کے پار اترا اور فربر کے مقام پر پڑاؤ ڈال دیا ۔
![]() |
| دریائے جیحوں پر کشتیوں کا پل |
یہاں سلطان الپ ارسلان کے سامنے ایک سرحدی قلعے کے محافظ یوسف کو پیش کیا گیا ۔ سلطان نے اس سے کچھ استفسار کیا ، یوسف نے بھرے دربار میں نہایت گستاخانہ جواب دیا اس پر سلطان کو غصہ آگیا اور اس نے یوسف کے لیے سزائے موت کا حکم جاری کردیا ۔
یوسف نے شدید ردعمل کا اظہار کیا کہ اس جیسا بہادر ذلت کی موت نہیں مرنا چاہتا ۔
سلطان الپ ارسلان جوش غضب سے اٹھا اور سپاہیوں کو حکم دیا اسے چھوڑ دو ۔ پھر کمان پر تیر جوڑ کر یوسف کی طرف متوجہ ہوا
سلطان الپ ارسلان کو تیر اندازی میں کمال درجہ مہارت حاصل تھی اور اس کا نشانہ کبھی خطا نہ ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے اس نازک موقع پر اس کا تیر خطا ہو گیا ۔
سلطان اب فرطِ غضب میں اپنے تخت سے اتر کر یوسف کی طرف بڑھا لیکن اس کا دامن تخت کے پایہ سے الجھ گیا اور وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑا ۔ اسی اثناء میں یوسف نے اپنا خنجر نکالا اور آگے بڑھ کر سلطان کی پشت میں گھونپ دیا پھر پلٹ کر وزیر سلطنت کو بھی زخمی کردیا ، یہ حادثہ اتنی سرعت سے وقوع پذیر ہوا کہ تمام اہلِ دربار پر سکتہ طاری ہو گیا ، تاہم جلد ہی ایک ارمنی فراش نے آگے بڑھ کر ایک میخ کوب یوسف کے سر پر مارا جس سے وہ چکرا کر گر پڑا ، دربار کے کچھ لوگوں نے اپنی تلواروں سے اسے شدید گھائل کردیا اور وہ موقع پر ہلاک ہو گیا ۔
زخمی سلطان الپ ارسلان کو اٹھا کر دوسرے خیمے میں لے جایا گیا ۔ طبیبوں اور جراہوں نے علاج میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی لیکن زخم کاری تھا کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی ، ایک دن سلطان الپ ارسلان نے اپنے قریب موجود لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا :
مجھ پر جو کچھ گزرا وہ میری خام خیالی کا نتیجہ تھا ۔ جب میں نوجوان تھا تو دریائے دجلہ کے کنارے ایک بزرگ نے مجھے نصیحت کی تھی
![]() |
| دریائے دجلہ |
کہ زور بازو پر کبھی ناز نہ کرنا اور دشمن کو کبھی حقیر نہ سمجھنا ۔ میں ان بزرگ کے ارشادات کو فراموش کر گیا ۔
یہاں آکر جب ایک ٹیلے سے اپنی عظیم الشان فوج پر نظر ڈالی تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ آج روئے زمیں پر مجھ سے بڑھ کر کوئی بادشاہ نہیں اور کسی کو میرے مقابل ہونے کا یارا نہیں ۔
پھر جب یوسف کو میرے سامنے پیش کیا گیا تو میں نے اپنے زور بازو پر بھروسہ کیا اور اسے حقیر جانا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہزار مسلح غلامان خاصہ کی موجودگی میں خدا نے مجھے ایک معمولی قیدی کے ہاتھ سے مروا دیا ۔
میں اللّٰہ رب العزت سے اپنی خام خیالی پر مغفرت طلب کرتا ہوں اور تمہیں بھی وصیت کرتا ہوں کہ ہمیشہ خود بینی سے بچنا اور ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ۔
اس واقعہ کے چار دن بعد اسلام کا یہ مایہ ناز سپہ سالار اور فاتح اس دار فانی سے کوچ کر گیا ۔
سلطان الپ ارسلان وسعت سلطنت اور قوت وشوکت کے لحاظ سے اپنے ہمعصر فرمانرواؤں میں سب سے بڑا فرمانروا تھا لیکن اس کے ساتھ ایک علم دوست حکمران تھا ۔
الپ ارسلان کو حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ علیہ سے بے حد عقیدت تھی ۔ ایک مرتبہ اسے اطلاع ملی کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ علیہ کا مزار کسمپرسی کی حالت میں ہے انہوں نے اسی وقت اس مزار کی تعمیر نو اور اس کے ساتھ ایک مدرسہ تعمیر کرنے کا حکم دیا ۔ جب وہ مدرسہ تعمیر ہو گیا تو اس کی رسم افتتاح بڑی شان سے ادا کی گئی اور صدیوں تک وہ تشنگانِ علم کی پیاس بجھاتا رہا ۔
سلطان الپ ارسلان کے عہد میں اس کی ہدایت پر وزیر سلطنت خواجہ نظام الملک طوسی نے اس بہترین نظام تعلیم کی بنیاد رکھی جو تاریخ میں نظامیہ کے نام سے مشہور ہوا اور مدارسِ نظامیہ سے صدیوں تک علوم و معارف کے چشمے ابلتے رہے ۔
![]() |
| مدرسہ نظامیہ |
سلطان الپ ارسلان اور ملازگرد کی جنگ کی فتح
Moral Stories
Historical Stories
Moral Stories for children




.png)














.png)

0 Comments