Header Ads Widget

Responsive Advertisement

توبہ و استغفار اور اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت و اہمیت ، صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے انتخاب ، اخلاقی کہانیاں ، سبق آموز ، اصلاحی اور حقیقی واقعات ، Tauba o Astaghfar , Urdu Moral Stories for children


اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت و اہمیت


حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللّٰہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے اور اہل ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں ۔

 

جب انہیں کہیں کچھ لوگ اللّٰہ کا ذکر کرتے مل جاتے ہیں تو وہ اپنے ساتھیوں کو پکارتے ہیں کہ آجاؤ ، جس چیز کی ہمیں تلاش تھی مل گئی ۔ پھر فرشتے اہل ذکر کو اپنے پروں سے آسمان تک ڈھانپ لیتے ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت و اہمیت
اللّٰہ کے ذکر کی فضیلت و اہمیت 

اللّٰہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں حالانکہ وہ زیادہ جانتے ہیں ، میرے بندے کیا کہتے ہیں ؟

 فرشتے جواب دیتے ہیں کہ وہ آپ کی حمد و تسبیح اور پاکی و بڑائی بیان کرتے ہیں ۔

اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ، کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ 

فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں اے رب ، انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا ۔

 اللّٰہ تعالیٰ دریافت فرماتے ہیں

 اگر انہوں نے مجھے دیکھا ہوتا تو پھر ان کی کیا کیفیت ہوتی ؟

 فرشتے عرض کرتے ہیں :

اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا ہوتا تو آپ کی عبادت کرنے میں ، آپ کی بزرگی بیان کرنے میں اور آپ کی حمد وتسبیح کرنے میں زیادہ شدت اختیار کرتے ۔

اللّٰہ تعالیٰ دریافت فرماتے ہیں یہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں ؟

 فرشتے کہتے ہیں وہ آپ سے جنت مانگتے ہیں

   اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے ؟

مناظر فطرت
اللّٰہ کے ذکر کی فضیلت و اہمیت
 

فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں ، اے رب انہوں نے جنت کو نہیں دیکھا ۔

اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ، اگر انہوں نے جنت کو دیکھ لیا ہوتا تو ان کی کیا کیفیت ہوتی ؟ 

فرشتے عرض کرتے ہیں اگر انہوں نے جنت کو دیکھ لیا ہوتا تو انہیں اس کی کہیں زیادہ خواہش ہوتی ، زیادہ شدت سے اس کے طلبگار ہوتے اور ان کو اس کی بہت زیادہ رغبت ہوتی ۔

اللّٰہ تعالیٰ دریافت فرماتے ہیں : اچھا یہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں ؟

فرشتے جواب دیتے ہیں ، دوزخ سے


آگ
اللّٰہ کے ذکر کی فضیلت و اہمیت 


 اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کیا انہوں نے دوزخ کو دیکھا ہے ؟

 فرشتے کہتے ہیں ، نہیں اے پروردگار انہوں نے جہنم کو نہیں دیکھا ۔

 اللّٰہ تعالیٰ پوچھتے ہیں اگر انہوں نے دوزخ کو دیکھا ہوتا تو ان کی کیا کیفیت ہوتی ؟

فرشتے عرض کرتے ہیں ، اگر کہیں انہوں نے دوزخ کو دیکھ لیا ہوتا تو اس سے زیادہ دور بھاگتے اور اس سے بہت زیادہ ڈرتے ۔

اللّٰہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں ، تم گواہ رہنا میں نے ان کو بخش دیا ۔

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا

اس وقت ایک فرشتہ عرض کرے گا

اے پروردگار !  ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو ان میں شامل نہیں تھا بلکہ اپنے کسی کام سے وہاں آ گیا تھا ۔

اللّٰہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ سب ساتھی تھے اور ان کے ساتھ اس مجلس میں بیٹھنے والا کوئی بھی محروم نہیں رہے گا ۔


سچی توبہ


حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں مسجد نبوی سے عشاء کی نماز پڑھ کر پلٹا تو دیکھا

مسجدِ نبوی
سچی توبہ

 کہ ایک عورت میرے گھر کے دروازے پر کھڑی ہے ۔ میں اس کو سلام کرکے گھر میں داخل ہو گیا اور دروازے بند کرکے نوافل پڑھنے لگا ۔ کچھ دیر کے بعد اس نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور اس سے آمد کی وجہ دریافت کی ۔ وہ کہنے لگی میں آپ سے ایک سوال کرنے آئی ہوں ۔

 مجھ سے ایک بڑے گناہ کا ارتکاب ہوا ہے  اب میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ میرا گناہ معاف ہونے کی بھی کوئی صورت ہے ؟

 میں نے کہا ہرگز نہیں ، تو وہ بڑی حسرت کے ساتھ آہیں بھرتی ہوئی واپس چلی گئی اور کہنے لگی ، افسوس یہ حسن آگ کے لیے پیدا ہوا تھا ۔

صبح نماز فجر ادا کرنے کے بعد میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے رات کا واقعہ بیان کیا

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ابو ہریرہ کیا قرآن کریم کی یہ آیت تم نے نہیں پڑھی !


قرآن مجید
سچی توبہ


اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾

 الا یہ کہ کوئی ﴿ان گناہوں کے بعد﴾ توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو ۔ ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللّٰہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور و رحیم ہے ۔

وَ مَنۡ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوۡبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا ﴿۷۱﴾

 جو شخص توبہ کر کے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللّٰہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے ۔

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ جواب سن کر میں باہر نکلا اور اس عورت کو تلاش کرنا شروع کیا ۔ رات کو عشاء ہی کے وقت وہ مل گئی ۔

 میں نے اسے خوشخبری سنائی کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تمہارے سوال کا یہ جواب دیا ہے ۔ 

یہ سنتے ہی وہ سجدے میں گر گئی اور کہنے لگی شکر ہے اس خدائے بزرگ و برتر کا جس نے میرے لیے معافی کا دروازہ کھولا ۔ پھر اس نے گناہ سے سچے دل سے توبہ کر لی ۔


توبہ و استغفار کی اہمیت


   رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا ، اللّٰہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ آدمی خوش ہوتا ہے جو ہلاکت خیز سنسان اور بے آب و گیاہ میدان میں ہو 

چٹیل میدان


 اس کے ساتھ اس کی سواری ہو ، اس سواری پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہوا ہو ، وہ تھکا ہارا کچھ دیر کے لئے سو جائے اور جب جاگے تو سواری جا چکی ہو ۔ وہ ڈھونڈتا رہے یہاں تک کہ اسے شدید پیاس لگ جائے ، پھر وہ کہے : میں جہاں پر تھا ، اسی جگہ واپس جاتا ہوں اور سو جاتا ہوں ، یہاں تک کہ اس نیند کے عالم میں مجھے موت آجائے ۔ وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے لیٹ جائے ، اچانک اس کی آنکھ کھلے تو اس کی وہ سواری جس پر اس کا زادراہ ، کھانا اور پانی تھا اس کے پاس کھڑی ہو ۔ تو اللّٰہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ آدمی اپنی سواری اور زادراہ کو دوبارہ پا کر خوش ہوتا ہے



خوف خدا اور فکر آخرت
اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر 

 آپ ﷺ نےفرمایا ، پچھلی امتوں میں ایک شخص تھا جسے اللّٰہ تعالیٰ نے مال و اولاد ہر نعمت سے نوازا تھا ۔

جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنی اولاد سے پوچھا کہ میں تمہارے لیے کیسا باپ ثابت ہوا ۔ انہوں نے کہا ، بہترین باپ ، اس پر اس نے کہا ، لیکن تمہارے باپ نے اللّٰہ کے ہاں کوئی نیکی نہیں بھیجی ہے اور اگر کہیں اللّٰہ نے مجھے پکڑ لیا تو سخت عذاب دے گا ۔

پھر اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا 

بھڑکتی ہوئی آگ
فکر آخرت 

اور میری راکھ آدھی ہوا میں اڑا دینا


ہوا میں راکھ
خوف خدا اور فکر آخرت 


اور آدھی سمندر میں بہا دینا 

سمندر
خوف خدا اور فکر آخرت  


اس لیے کہ اگر میں کہیں اللّٰہ تعالیٰ کی پکڑ میں آگیا تو وہ مجھے ایسی سزا دے گا جو اس نے دنیا والوں میں سے کسی کو نہ دی ہوگی

اس کے وارثوں نے اس کی وصیت پر عمل کیا ۔

پھر اللّٰہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے اس کی تمام راکھ یکجا کر دی اسی طرح خشکی کو حکم دیا اس نے بھی جو راکھ اس پر بکھری ہوئی تھی جمع کردی اور اسے زندہ فرما کر اس سے پوچھا ، تم نے ایسا کیوں کیا ؟ 

اس نے جواب دیا اے میرے رب آپ کے ڈر سے اور آپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں ۔

 یہ جواب سن کر اللّٰہ تعالیٰ نے اس کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ اس پر رحم کیا اور اسے بخش دیا ۔


ننانوے قتل اور توبہ
 

   نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا ۔ اس نے ننانوے قتل کیے پھر اس نے زمین پر بسنے والوں میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا کہ وہ کون ہے ۔ اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا

خانقاہ ، راہبوں کی عبادت گاہ
ننانوے قتل اور توبہ 

وہ اس راہب کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ کی کوئی سبیل ہے ؟ راہب نے کہا ہرگز نہیں ۔ تو اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس کے قتل سے سو قتل پورے کر لیے ۔

اس نے پھر اہل زمین میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا ۔ اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا ۔ 

خانقاہ ، عیسائیوں کی عبادت گاہ



تو اس نے جا کر کہا : اس نے سو قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ کا کوئی امکان ہے ؟ 

اس عالم نے کہا : ہاں تمہارے اور توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے ؟ تم فلاں سرزمین پر چلے جاؤ وہاں ایسے لوگ ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ،

روشن راستے
 


 تم بھی ان کے ساتھ اللّٰہ کی عبادت میں مشغول ہو جاؤ اور اپنی سرزمین پر واپس نہ آنا یہ برائیوں کی آماجگاہ ہے  ۔

وہ چل پڑا ، یہاں تک کہ جب آدھا راستہ طے کر لیا تو اسے موت نے آ لیا ۔ اس نے مرتے وقت خود کو گھسیٹتے ہوئے دوسری بستی کے کچھ قریب کرلیا ۔

 اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے باہم تکرار کرنے لگے ۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ شخص توبہ کرتا ہوا اپنے دل کو اللّٰہ کی طرف متوجہ کرکے آیا تھا اور عذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہیں کیا ۔

 ایک فرشتہ ان کے پاس آیا ، انہوں نے اسے اپنے درمیان ثالث مقرر کر لیا ۔ اس نے کہا : دونوں زمینوں کے درمیان فاصلہ ناپ لو ، وہ دونوں میں سے جس زمین کے زیادہ قریب ہو تو وہ اسی زمین کے لوگوں میں سے ہو گا ۔ 

انہوں نے مسافت کو ماپا تو اسے اس سرزمین کے قریب تر پایا جس کی طرف وہ جا رہا تھا چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اسے اپنے ہاتھوں میں لےلیا ۔


گناہ سے توبہ


ایک بوڑھا شخص حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ساری زندگی گناہوں میں گزری ہے ۔ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کا ارتکاب نہ کر چکا ہوں ۔ اپنے گناہ روئے زمین کے تمام باشندوں پر تقسیم کر دوں تو سب کو لے ڈوبیں ۔ 

دنیا


کیا اب بھی میری معافی کی کوئی صورت ہے ؟ 

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ اس نے عرض کیا ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں ۔

فرمایا ، جاؤ ، اللّٰہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دینے والا ہے ۔

اس نے عرض کیا ، کیا میرے سارے جرم اور قصور معاف ہو سکتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا ہاں تمہارے سارے جرم اور قصور 


   رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی ، اللّٰہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی ، اللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللّٰہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور اللّٰہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص اس راستے پر چلتا ہے جس میں وہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے ، اللّٰہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں لوگوں کا کوئی گروہ اکٹھا ہوتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا درس و تدریس کرتے ہیں تو ان پر سکینت ( اطمینان و سکون قلب ) کا نزول ہوتا ہے اور ( اللّٰہ کی ) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے مقربین میں جو اس کے پاس ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتا ہے ۔ لیکن جس کے عمل نے اسے خیر کے حصول میں پیچھے رکھا ، اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا

دور جاہلیت کے گناہ اور ایمان

 

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے عہد جاہلیت کا ایک واقعہ بیان کیا کہ 

یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں تجارت کی غرض سے اکثر شام اور عراق کے سفر کرتا تھا ۔

کئی برس پہلے ، میری شادی کو چند ماہ ہوئے تھے کہ ایک قافلے کے ساتھ شام چلا گیا ۔ 

 وہاں کاروبار کی اتنی مصروفیت رہی کہ میں چار سال تک گھر واپس نہ آسکا ۔ اس دوران میری بچی پیدا ہوئی ۔ میری بیوی نے اس کی بہت اچھی پرورش اور تربیت کی ۔ 

میں جب گھر لوٹا تو اپنے صحن میں ایک پیاری سی بچی کو کھیلتے ہوئے پایا ۔ میری بچی مجھ سے بہت جلد مانوس ہوگئی اور بہت محبت کرتی تھی ۔ میں جب گھر لوٹتا وہ میرے پاس آتی ، میرے ہاتھ چومتی ، مجھے پانی لا کر دیتی ۔ میں جب اسے پکارتا وہ دوڑتی ہوئی میرے پاس آتی ۔ 

ایک روز میں نے اپنی بیوی سے کہا اسے تیار کر دو ، ذرا باہر لے کر جانا ہے ۔ میری بیوی پریشان ہو گئی ۔ اس نے بچی کو مجھ سے لینے کی کوشش کی ۔ میں نےبیوی کے ہاتھوں سے بچی کو چھینا اور اسے لے کر باہر نکل گیا ۔ میری بیوی روتی اور منت سماجت کرتی رہی اور بچی کو پکارتی رہی ۔

میں نے ایک جگہ تلاش کرکے گڑھا کھودنا شروع کیا ۔ میں گڑھے سے مٹی نکال رہا تھا اور میری بچی میرے چہرے اور ہاتھوں سے مٹی صاف کرتی جاتی تھی ۔

جب گڑھا تیار ہو گیا تو میں نے اپنی بچی کو اس میں دھکیل دیا اور مٹی ڈالنے لگا ، آخری آواز جو میرے کانوں میں آئی وہ تھی ہائے بابا ۔۔۔۔ ہائے بابا

زمین میں گڑھا
 
 

میں نے اپنی بچی کو زندہ درگور کردیا 

یہ سن کر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رو دیے اور آپ کے آنسو بہنے لگے ۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا ، اے شخص تو نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو غمگین کر دیا ۔ 

حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت روکو ۔ جس چیز کا اسے شدت سے احساس ہے اس کے بارے میں سوال کرنے دو ۔

پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنا قصہ دوبارہ بیان کرو ۔ 

اس نے اپنا قصہ دوبارہ بیان کیا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس واقعہ کو سن کر اس قدر روئے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی ۔ پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جاہلیت میں جو کچھ ہو گیا اللّٰہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کرو ۔


اللّٰہ اور انسان

   

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ جاتا ہوں۔“

 رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللّٰہ عزوجل فرماتا ہے : جو شخص ایک نیکی لے کر آتا ہے ، اسے اس جیسی دس ملتی ہیں اور میں بڑھا بھی دیتا ہوں اور جو شخص برائی لے کر آتا ہے تو اس کا بدلہ اسی جیسی ایک برائی ہے یا چاہوں تو معاف کر دیتا ہوں ۔ جو مجھ سے پوری زمین کی وسعت بھر گناہوں کے ساتھ ملاقات کرتا ہے ( اور ) میرے ساتھ کسی  کو شریک نہیں ٹھہراتا ، میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ اس سے ملاقات کرتا ہوں

پھول اور آگ



رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللّٰہ تعالیٰ جنت اور جہنم کی تخلیق فرما چکے تو جبرائیل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور کہا

فطرت کی خوبصورتی
جنت اور دوزخ  
 


جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے جو کچھ ہم نے تیار کر رکھا ہے ، اسے جا کر دیکھو ،

وہ آئے اور جنت کو اور اہل جنت کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے جو کچھ تیار کر رکھا ہے اسے دیکھا پھر اللّٰہ تعالیٰ کے پاس واپس گئے اور عرض کیا : تیری عزت کی قسم ! جو بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں ضرور داخل ہو گا ، 

پھر اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھیر دی گئی ، اللّٰہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا : اس کی طرف دوبارہ جاؤ اور اس میں جنتیوں کے لیے ہم نے جو تیار کیا ہے اسے دیکھو ۔ جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف دوبارہ گئے تو اسے ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھرا ہوا پایا وہ اللّٰہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر آئے اور عرض کیا : اے میرے رب مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہو سکے گا ۔

اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ، جہنم کی طرف جاؤ جہنم کو اور جو کچھ جہنمیوں کے لیے میں نے تیار کیا ہے اسے جا کر دیکھو 

  

بھڑکتی ہوئی آگ
جنت اور دوزخ 
 

انہوں نے دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھ رہا ہے ۔

 وہ اللّٰہ تعالیٰ کے پاس آئے اور عرض کیا آپ کی عزت کی قسم ! اس کے بارے میں جو بھی سنے گا اس میں داخل نہیں ہو گا ۔ 

 اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا تو جہنم شہوات اور نفسانی خواہشات سے گھیر دی گئی ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ، اس کی طرف دوبارہ جاؤ ،

 وہ اس کی طرف دوبارہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی نجات نہیں پا سکے گا بلکہ سارے لوگ اس میں داخل ہو ں گے “۔

Moral Stories

Moral Stories for children

اخلاقی کہانیاں

Urdu Moral Stories

توبہ و استغفار کی فضیلت و اہمیت

سچی توبہ

ننانوے قتل اور توبہ

دور جاہلیت کے گناہ اور ایمان 

بیٹی زندہ درگور کر دی 








Post a Comment

0 Comments